ابنا: ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کا آخری دور پندرہ اور سولہ اکتوبر کو جنیوا میں ہوا تھا۔ جس میں تہران کی جانب سے ایک نئی تجویز پیش کۓ جانے کے بعد فریقین نے اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ اختلافات کو ختم کرنے کے لۓ اگلے دور کے مذاکرات سے قبل ایٹمی ، سائنسی اور پابندیوں کے امور کے ماہرین کی کمیٹیاں آپس میں مذاکرات کریں گے۔اسلامی جمہوریہ ایران اس بات پر زور دے رہا ہے کہ مذاکرات کی بنیاد فریقین کے مفادات پر استوار ہونی چاہۓ۔ اس لۓ ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اور ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی جانب سے پیش کی جانے والی تجویز میں مذاکرات کی کامیابی اور ان میں پیشرفت کے لۓ فریقین کی جانب سے عملی اقدامات کو ضروری قرار دیا گيا ہے۔ ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی تجویز ایک قابل عمل تجویز ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران یورپی فریق سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ ایرانی عوام کے خلاف عائد کی جانے والی ظالمانہ پابندیوں کو ختم کرد ے گا۔گروپ پانچ جمع ایک میں امریکہ کے سینئر مذاکرات کار ونڈی شرمین نے بھی امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران مخالف پابندیوں میں شدت لانے کے اپنے فیصلے میں نظر ثانی کرے۔امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور نئے وزیر خزانہ جیک لیو بھی ایران کے خلاف نئی پابندیوں کی روک تھام کے لۓ اس ملک کی سینیٹ کے اراکین کے ساتھ ملاقات کرنے والے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ یہ ملاقات ایران کے خلاف نئي پابندیوں کی روک تھام سے متعلق امریکی صدر کی ان کوششوں کا حصہ ہے جو گروپ پانچ جمع ایک اور ایران کے مذاکرات کے تناظر میں تہران کے ساتھ اتفاق رائے تک پہنچنے کے مقصد سے نئے ماحول سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے جانے کی امید کے ساتھ کی جارہی ہیں۔روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق جان کیری اور جیک لیو جمعرات کے دن بند کمروں میں امریکی سینیٹ کی بینکوں سے متعلق کمیٹی کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے نمائندوں کے نئے دور کے مذاکرات کے انعقاد کے موقع پر مذاکرات میں پیشرفت سے متعلق فریقین کی کوششوں کو مثبت قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی اس امید کا اظہار کیا ہے کہ سیاسی عزم اور سنجیدگي کے ساتھ یہ مذاکرات جاری رہیں گے ، فریقین کی تشویش برطرف ہوجائے گي اور پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی سے متعلق ایران کے مسلم حقوق حاصل ہوں گے۔
.......
/169